ایس آئی او تحریری مقابلہ: دکن اسکول کے طالب علم شیخ سہیل کو اوّل مقام، آوازِ نرمل نیوز کے ایڈیٹر ان چیف عثمان بن عقیل کا خراجِ تحسین

 

مادری زبان اردو کی بقا کے لیے دکن ہائی اسکول کی 26 سالہ خدمات قابلِ قدر، شہر میں مزید شاخیں قائم کرنے کی ضرورت


نرمل، 31 اگست (رپورٹ: آوازِ نرمل نیوز): ماہِ ربیع الاول کی مبارک مناسبت سے اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (SIO) نرمل یونٹ کے زیرِ اہتمام 23 اگست کو اسلامک سنٹر نرمل میں ہائی اسکول کے طلبہ کے لیے ایک عظیم الشان تحریری مقابلے کا انعقاد عمل میں لایا گیا تھا، جس کا عنوان "سیرتِ طیبہ ﷺ اور انسانیت کے لیے آپ ﷺ کی تعلیمات" رکھا گیا، اس باوقار مضمون نویسی مقابلے میں شہر کے متعدد اسکولوں کے طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی جہاں سخت مقابلے کے بعد دکن ہائی اسکول بدھوار پیٹ نرمل کی دسویں جماعت کے ہونہار و ذہین طالب علم شیخ سہیل الدین ولد شیخ مصیح الدین نے اپنی عمیق علمی صلاحیت اور فصیح تحریر کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہر بھر میں پہلا مقام (انعامِ اول) حاصل کیا، اس مسرت کن کامیابی پر دکن ہائی اسکول اردو میڈیم کے احاطے میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران SIO نرمل یونٹ کے صدر شیخ فیصل اور ICA سکریٹری شیخ سمیر کے دستِ مبارک سے کامیاب طالب علم شیخ سہیل کو 2,000 روپے نقد انعام، یادگاری مومنٹو اور میرٹ سرٹیفکیٹ پیش کر کے ان کی شاندار حوصلہ افزائی کی گئی، اس افتخار بخش موقع پر دکن ہائی اسکول کے کراسپونڈنٹ محمد قاسم نے ہونہار طالب علم شیخ سہیل کو دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی زبردست ستائش کی اور اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکن ہائی اسکول گزشتہ 26 برسوں سے قوم و ملت کے نونہالوں کو معیاری و بہترین عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلیٰ دینی و اخلاقی تربیت فراہم کرنے کے مقدس مشن پر گامزن ہے اور اسکول انتظامیہ و اساتذہ کی ان تھک محنت کا ہی ثمر ہے کہ ادارے کے طلبہ و طالبات ہر تعلیمی، تحریری و تقریری مقابلوں میں نمایاں مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابی کے پرچم لہراتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ادارے کے بے شمار سابق طلبہ آج اعلیٰ تعلیم مکمل کر کے ملک و بیرونِ ملک کے مختلف شعبہ ہائے حیات میں اپنی بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں، اس پروقار تقریب میں صدر مدرس محمد زبیر احمد، اسکول انچارج عفشاں ناز، اساتذہ محمد ابرار، محمد عبداللہ، محمد شفیع، دیگر تعلیمی عملے اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کرتے ہوئے اول انعام حاصل کرنے والے شیخ سہیل کو مبارکباد دی اور ان کے روشن مستقبل کے لیے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا، اس مبارک موقع پر آوازِ نرمل نیوز کے ایڈیٹر ان چیف عثمان بن عقیل نے دکن ہائی اسکول کے کراسپونڈنٹ محمد قاسم اور تمام اسکول انتظامیہ کو اس عظیم الشان تعلیمی سفر کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھنے پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے حق میں دعائیہ کلمات کہے اور ان کی خدمات کو پُرخلوص خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں اردو میڈیم اسکول چلانا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایک عظیم تعلیمی و ملی مجاہدہ ہے اور اس دورِ زوال میں دکن ہائی اسکول شہرِ نرمل میں وہ واحد روشن چراغ ہے جو مادری زبان اردو کی شمع کو پوری توانائی کے ساتھ روشن رکھے ہوئے ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہماری تہذیب، ہماری ثقافت، اور ہماری شاندار تاریخ کی روح ہے جبکہ ریاست تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے، آج کے اس جدید دور میں جہاں سرپرست اپنے بچوں کو تیزی سے انگریزی میڈیم کی طرف مائل کر رہے ہیں وہاں مادری زبان کی بقا اور تحفظ ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے، اگر آج اس زبان کی پاسبانی نہ کی گئی تو آنے والی نسلیں اپنی شیریں زبان اور ادبی ورثے سے محروم ہو جائیں گی، انہوں نے کراسپونڈنٹ محمد قاسم کی ہمت اور 26 سالہ بے لوث خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ دکن ہائی اسکول نے جس طرح اردو کو زندہ رکھا ہے وہ قابلِ صد احترام ہے، تاہم نرمل جیسے وسیع اور پھیلتے ہوئے شہر میں نونہالوں کے روشن مستقبل کے لیے ایسے مزید 4 اردو میڈیم اسکولوں کی سخت ضرورت ہے، انہوں نے اسکول انتظامیہ سے خصوصی خواہش کا اظہار کیا کہ وہ شہر کے دیگر کونوں میں بھی دکن ہائی اسکول کی نئی شاخیں (Branches) قائم کریں تاکہ شہر کے ہر بچے کو مادری زبان اردو میں معیاری تعلیم میسر آ سکے اور اردو کا یہ تعلیمی کارواں یونہی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتا رہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post