پیپر لیک کا جھٹکا بھی بے اثر: نرمل کے شیخ زید احمد کا عزمِ مصمم، نیٹ امتحان میں شاندار کامیابی کے بعد میڈیکل سیٹ پکی




آوازِ نرمل نیوز (17 جولائی): ضلع نرمل کے قلب میں واقع تجارتی مرکز گلزار مارکیٹ سے تعلق رکھنے والے ایک غیور کاشتکار لطیف احمد کے بلند اقبال اور ہونہار فرزند شیخ زید احمد نے تمام تر ناگہانی مصائب، ذہنی تناؤ اور امتحانی نظام کی بدعنوانیوں کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے بالاخر طبی تعلیم (MBBS) کے حصول کی جانب اپنے عزمِ صمیم کے گہرے نقوش ثبت کر دیے ہیں، جس کی تفصیلات کے مطابق ایک عام زرعی پس منظر اور شب و روز کی سخت محنت سے وابستہ والد نے اپنے خونِ جگر سے بیٹے کو ایک مسیحا اور اعلیٰ درجے کا معالج بنانے کا جو خواب دیکھا تھا، اس سعادت مند بیٹے نے بھی اپنی شبانہ روز کی محنت، غیر متزلزل توجہ اور بے پناہ علمی صلاحیتوں کو اپنے والد کی اس دیرینہ تمنا کی تکمیل کے لیے وقف کر دیا تھا، چنانچہ انٹر میڈیٹ کے بعد جب اس باصلاحیت نوجوان نے پہلی مرتبہ نیٹ (NEET) کے قومی سطح کے مقابلہ جاتی امتحان میں شرکت کی، تو امتحانی جوابی کلید (Key Paper) کی رو سے ان کا 530 نمبرات حاصل کرنا بالکل یقینی ہو چکا تھا اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کی منزلِ مقصود اب محض ایک رسمی قدم کی دوری پر ہے، مگر افسوس کہ ملک گیر سطح پر پرچے کے افشاء (Paper Leak) کے المناک اور افسوسناک واقعے نے لاکھوں طلبہ کے روشن مستقبل کو داؤ پر لگاتے ہوئے اس نوجوان کی بے لوث محنت پر بھی عارضی طور پر پانی پھیر دیا اور امتحان کو یکسر منسوخ کر دیا گیا، لیکن اس ناگہانی دھچکے اور شدید ترین ذہنی و نفسیاتی دباؤ کے باوجود شیخ زید احمد کے پائے استقلال میں ذرہ برابر بھی لغزش نہ آئی اور انہوں نے ازسرِ نو منعقدہ سخت امتحان میں دوبارہ پورے جوش اور عزمِ راسخ کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے حالیہ جاری کردہ نتائج میں 487 باوقار نمبرات حاصل کر کے اپنی غیر معمولی اہلیت اور غیر متزلزل صلاحیت کا لوہا منوا لیا ہے، جس کے بعد اب آئندہ ہونے والی کونسلنگ میں انہیں میڈیکل کی باوقار نشست ملنا بالکل طے پا چکا ہے، اور اسی شاندار، تاریخی اور ولولہ انگیز کامیابی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے جمعہ کے روز گلزار مسجد میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد بارگاہِ الٰہی میں ربِ ذوالجلال کے حضور خصوصی شکرانے کی دعائیں مانگی گئیں اور روایتی شادمانی و انکساری کے ساتھ اہلخانہ، معزز احباب اور مقامی بستی والوں نے ایک دوسرے کا منہ میٹھا کرواتے ہوئے بڑے پیمانے پر مٹھائیاں تقسیم کیں، جس نے نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورے علاقے کو فخر اور مسرت کے بے مثال جشن کے ماحول میں بدل دیا ہے۔
 

Post a Comment

Previous Post Next Post