نیٹ پیپر لیک: تلنگانہ بند کے دائرے میں نرمل کے تمام اسکول اور کالج مکمل بند؛ دہلی کے جنتر منتر سے اٹھی تحریک پر نرمل میں طلبہ کا تاریخی احتجاج، یوتھ کانگریس کی حمایت اور آر ڈی او دفتر تک عظیم الشان ریلی






 رپورٹ: آوازِ نرمل نیوز، تاریخ: 24 جولائی 2026ء: نیٹ (NEET) امتحان کے پیپر لیک اور تعلیمی کرپشن کے خلاف ریاست تلنگانہ بند کی کال کے تحت آج نرمل شہر سمیت پورے اضلاع میں تمام اسکول اور کالج مکمل طور پر بند رہے، جبکہ دہلی کے تاریخی مقام 'جنتر منتر' پر پچھلے کئی دنوں سے جاری طلبہ کی تحریکی جدوجہد کے تسلسل میں آج نرمل شہر میں بھی بڑے پیمانے پر ایک عظیم الشان احتجاجی پروگرام منظم کیا گیا، جس میں طلبہ کی اس حق کی لڑائی کو طاقت دینے اور ان کا شانہ بشانہ ساتھ دینے کے لیے یوتھ کانگریس کے قائدین و کارکنان بڑی تعداد میں پہنچے، اور یہ پرشکوہ ریلی منی ٹینک بنڈ پر واقع مجسمۂ امبیڈکر کے پاس سے برآمد ہو کر زبردست نعرے بازی کے ساتھ آر ڈی او (RDO) دفتر پہنچی جہاں مظاہرین نے پرامن دھرنا دیتے ہوئے تفصیلی یادداشت پیش کی۔ اس موقع پر کونسلر عمران اللہ، نمائندہ کونسلر محمد ذاکر، سجاد حسین، ارشد، نوید اور ڈاکٹر رضی الدین کے علاوہ بے شمار کارکنان موجود رہے۔ احتجاجی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کونسلر عمران اللہ نے قائدِ اپوزیشن راہل گاندھی کی انتھک جدوجہد کا ذکر کیا اور بتایا کہ راہل گاندھی نے طلبہ کے حقوق کی خاطر وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے سامنے احتجاج کے دوران پولیس کا تشدد سہا اور خون بہایا لیکن پیچھے نہیں ہٹے، لہٰذا ناکام حکومت کو فوراً مستعفی ہو جانا چاہیے۔ وہیں نمائندہ کونسلر محمد ذاکر نے دہلی پولیس کے جارحانہ رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپنے آئینی حقوق کا مطالبہ کرنے والے معصوم طلبہ پر ہاتھ اٹھانا اور تشدد کرنا پولیس کی سخت نااہلی اور کھلی بربریت ہے جسے کسی صورت برادشت نہیں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سجاد حسین نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو اس گھپلے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا، جبکہ ممتاز ماہرِ تعلیم ڈاکٹر رضی الدین نے 'آوازِ نرمل نیوز' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک ماں اپنے بچے کی تعلیم کے لیے اپنے زیورات بیچ دیتی ہے اور باپ اپنی عمر بھر کی کمائی داؤ پر لگا دیتا ہے، لہٰذا پیپر لیک ہونا اور طلبہ پر لاٹھی چارج کرنا ان تمام قربانیوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے۔ رہنماؤں اور طلبہ نے واضح اعلان کیا کہ جنتر منتر سے شروع ہونے والی یہ تحریک اور نرمل کا یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی نہیں ہو جاتے اور تمام طلبہ کو مکمل انصاف نہیں مل جاتا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post