بشیر بدر کی شاعری کا تحقیقی جائزہ


      مضمون نگار: ڈاکٹر رضیؔ شطاری (بانی و صدر بزمِ شاعری)
28 مئی 2026 کو اردو کے ایک عظیم شاعر بشیر بدر کا انتقال ہوا۔ اس موقع پر ان کی شاعری کا تحقیقی جائزہ لیتے ہوئے ایک مضمون رقم کرکے انہیں تہنیت پیش کرنا چاہتا ہوں۔
اردو شاعری کی تقریباً 700 سالہ تاریخ میں متعدد شعراء آئے جنہوں نے غزل، نظم و مختلف اصنافِ سخن کی آبیاری کی اور اپنے حصے کی شہرت و مقبولیت حاصل کی۔ ان میں چند شعراء کی مقبولیت کا وہ عالم ہے کہ ان کے اشعار محاوروں کے طور پر عوام میں مروج ہوگئے اور روزمرہ کی گفتگو میں بر موقع موزونیت کے اعتبار سے ان کے اشعار سنائے جانے لگے۔ اردو کے اکابر شعراء کے بعد مقبول ترین شعراء میں بشیر بدر کا نام اپنی شاعرانہ شان و شوکت کے ساتھ درخشاں ہے۔ بشیر بدر کے تقریباً 20 سے زیادہ اشعار اردو بول چال میں استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ ان کا اردو شاعری بالخصوص غزل کو دیا ہوا ایک زبردست اور غیر معمولی تعاون ہے۔
بشیر بدر کی شاعری سہل ممتنع یعنی آسان اور عام فہم زبان میں ہے۔ انہوں نے اپنے سادہ لہجے سے غزل کو ایسے سنوارا، شستہ و چست بندشِ لفظی سے ایسے نکھارا کہ سادگی میں بھی وہ فصاحت و بلاغت کلام میں پیدا ہوگئی کہ اشعار جامع اور معانی وسیع ہوگئے۔ انہوں نے اپنی غزلوں میں جمالیات، تغزل، تلمیحات، طنز، تصوف، فلسفہ، علامتی زبان، جیسے مضامین شامل کرکے غزلوں کے حسن کو دوبالا کردیا۔ ان کے کلام میں ایسا مشاہدہ ہے کہ وہ اپنے دور کے اچھے اور برے تمام پہلوؤں کو اپنے کلام میں سمیٹ کر رکھ دیا۔ اپنی پریشانیوں، درد اور ناخوشگوار تجربوں کو بشیر بدر نے اپنی غزلوں میں بڑی سادگی سے ایسے بیان کیا کہ پڑھنے والے کو اس میں اپنی خود کی زندگی، اپنا درد نظر آنے لگا۔ یہ ان کی شاعرانہ صلاحیت کا کمال ہے کہ شعر کو اتنا وسیع کردیا کہ ہر خاص و عام کو یوں لگے کہ یہ شعر اسی کے لیے کہا گیا ہو۔ بشیر بدر کی شاعری کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ انہوں نے کبھی اخلاقی اقدار کو نہیں چھوڑا۔ تیز اور تند طنز بھی کیا تو اس انداز میں کہ کوئی سمع خراشی بھی نہ ہو اور بات بھی سمجھ آگئی۔ محبوب سے بھی انہوں نے غزل میں ایسے کھل کر بات کی کہ اس لہجے اور انداز سے غزل میں ایک جدت و ندرت پیدا ہوگئی۔
آئیے بشیر بدر کے چند اشعار کی شعری و فنی خصوصیات کا مشاہدہ کیا جائے۔ یہاں میں اپنے انتخاب سے بشیر بدر کے چند اشعار کی خصوصیات بتانے کی کوشش کروں گا۔
شعر:
پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا
میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا
اس شعر میں ایسے شخص کی طرف اشارہ ہے جو ظاہری طور پر چاہنے والا اور بہی خواہ ہے لیکن اس کا دل صاف نہیں ہے، حسد اور بغض کے سبب وہ کینہ رکھتا ہے اور مجھے برا سمجھتا ہے، حالانکہ اس نے مجھے قریب سے نہیں دیکھا ورنہ وہ مجھے ایسا نہیں سمجھتا۔
شعر:
میں نے تری آنکھوں میں پڑھا اللہ ہی اللہ
سب بھول گیا یاد رہا اللہ ہی اللہ
اس مطلع میں صوفیانہ رنگ نظر آتا ہے اور عشق حقیقی کا بیان ہے۔ کہا گیا ہے کہ تو نے مجھ پر خدا کی عظمت کھول کر رکھ دی اور جب اس کی ذات کی حقیقت پیش نظر رہی تو اس کے سوا کچھ اور نظر ہی نہیں آیا۔
شعر:
گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے
بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا
اس شعر میں بشیر بدر اپنے دور کے ایسے چہرے کو سامنے لارہے ہیں کہ جہاں بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہنے والے قابل ترین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ تو ہیں لیکن ان میں آدمیت کے بنیادی عناصر جیسے انس، مروت، اخلاق و اخلاص کا فقدان ہے۔
شعر:
خاک جب خاکسار لگتی ہے
کس قدر باوقار لگتی ہے
اس شعر میں عاجزی اور انکساری کی اہمیت بتائی گئی۔ انسان کو کسی قیمت غرور و تکبر نہیں کرنا چاہیے۔ وہ جتنا عاجزی و انکساری والا مزاج رکھے اس کی عزت اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔ جس طرح بھرے ہوئے برتن آواز نہیں کرتے اس طرح اخلاق لوگ خود نمائی نہیں کرتے۔
شعر:
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلہ سے ملا کرو
اس شعر میں بھی بشیر بدر معاشرے کی اس برائی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ یہاں ہر کوئی اپنا نہیں ہوتا اس لیے ہر کسی سے گھل مل جانے کی کوشش نہ کرنا ورنہ لوگ تمہارے ساتھ غیریت کا ایسا رویہ اختیار کریں گے کہ تمہیں بہت تکلیف ہوگی۔
بشیر بدر نے اپنی شاعری میں اپنی زندگی کے مشاہدات، نشیب و فراز، مٹھاس و کڑواہٹ کو جمع کردیا اور پڑھنے والے کو سماج کے اصلی چہرے سے واقف کروایا۔ ان کے کلام میں کئی کار آمد نصیحتیں چھپی ہوئی ہیں۔ کہیں فلسفوں کا فصیح بیان ہے، کہیں رشتوں کی قدریں اور حقیقیتیں ہیں۔ بہرحال قاری کو ان کا کلام پڑھنے کے بعد اردو شاعری کی لذت تو محسوس ہوگی ہی، ساتھ ہی ساتھ اپنی فکر و سوچ میں بھی وسعت پیدا کرنے کے راستے ملیں گے اور کلام وہی اچھا ہے جس سے پڑھنے والے کا کچھ فائدہ بھی ہو۔

Post a Comment

Previous Post Next Post