شعبہ اصلاحِ معاشرہ جمیعت علماء مامڑہ کے زیرِ اہتمام "نشہ چھوڑو، خاندان بچاؤ" مہم کا کامیاب انعقاد؛ نئی نسل کو تباہی سے بچانے کے لیے ائمہ مساجد، دانشوران اور مقامی حکام کا مشترکہ عزم




مامڑہ (رپورٹ: آوازِ نرمل نیوز): 5 جون 2026ء بروز جمعہ، نمازِ جمعہ کے فوراً بعد روبرو تحصیل آفس مامڑہ ایک اہم اور مصلحانہ پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا، جس کا مقصد معاشرے میں بڑھتی ہوئی نشے کی لت کے خلاف بیداری پیدا کرنا اور نئی نسل کے محفوظ مستقبل کے لیے ایک توانا آواز بلند کرنا تھا، جس کی صدارت صدر جمیعت علماء مامڑہ مولانا محمد انور قاسمی نے فرمائی، جبکہ مہمانِ خصوصی کے طور پر ممتاز عالمِ دین مولانا مفتی محمد الیاس احمد حامد قاسمی نے شرکت فرما کر اپنے دلنشیں خطاب سے عوام کو جھنجھوڑا۔ پروگرام میں منبر و محراب کے وارثین اور کبار علمائے کرام نے عوام کا درد اپنے الفاظ میں پیش کیا، جن کے ہمراہ مولانا سید عابد حسین قاسمی، مولانا سلیط مظاہری، نائب صدر جمیعت علماء مامڑہ مولانا شیخ سلمان قاسمی، جنرل سکریٹری حافظ شیخ فیصل، خازن حافظ شیخ شاہرخ اور فعال کارکن حافظ سید سلمان جیسے معزز علمائے کرام و سرکردہ ذمہ داران نے اس اصلاحی مہم کو فکری و نظریاتی جلا بخشی، جبکہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کے ذمہ دار، مقامی انتظامیہ اور پولیس محکمہ کے اعلیٰ افسران نے بھی اس پروگرام میں خصوصی شرکت کی، جن میں ایم آر او جے سرینواس، آر آئی راجیندر اور اے ایس آئی گنگارام شامل تھے، جنہوں نے جمیعت علماء کی اس مہم کی دل کھول کر ستائش کی اور مارکیٹ سے اس زہر کو صاف کرنے کے لیے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ اس مہم کو حقیقی عوامی طاقت دینے کے لیے مامڑہ، کورٹیکل، سانگوی اور دیگر قریبی علاقوں کی تمام مساجد کے محترم ائمہ کرام، صدور، مقامی نوجوانوں اور بزرگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کر کے یہ ثابت کر دیا کہ اب ہمارا معاشرہ اس گندگی کو مزید برداشت نہیں کرے گا۔ طبی حقائق اور انسانی صحت کے پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے مقررین نے واضح کیا کہ گٹکے اور پان مصالحے کی یہ چمکدار اور خوبصورت پیکنگ دراصل موت کا ایک سستا سودا ہے، کیونکہ اس زہر میں پائے جانے والے نکوٹین سمیت تقریباً چالیس قسم کے ہلاکت خیز کیمیکلز اور تیزاب انسان کی زبان، مسوڑھوں اور جبڑوں کو اندر سے اس طرح چھل دیتے ہیں کہ انسان مرچ اور مصالحے دار تو دور، عام کھانا کھانے کے قابل بھی نہیں رہتا، یہ لت انسان کی بھوک کو مار دیتی ہے، دانتوں کو بھیانک اور بدنما بنا دیتی ہے، بلڈ پریشر کو بڑھاتی ہے، آنکھوں کی روشنی کمزور کرتی ہے اور آہستہ آہستہ انسان کو منہ، معدے اور آنتوں کے کینسر جیسی لاعلاج بیماریوں کے اندھے کنویں میں دھکیل دیتی ہے، لہذا ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیے کہ اپنے ہی خون پسینے کی حلال کمائی سے ایسی بھیانک بیماریاں اور موت خریدنا کہاں کی عقل مندی ہے؟ اپنے معصوم بچوں کے چہروں کو دیکھیے، اپنے بوڑھے ماں باپ پر رحم کھائیں اور اپنے ہنستے کھیلتے خاندان کی خاطر اس گندی اور مہلک لت کو آج اور اسی وقت ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیں؛ حکومتِ وقت سے بھی یہ پرزور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ مارکیٹ میں ملنے والے تمام غیر قانونی گٹکوں اور نشہ آور اشیاء کی فروخت پر فوری اور سخت ترین پابندی عائد کی جائے، کیونکہ زندگی اللہ پاک کی دی ہوئی ایک انمول اور حسین نعمت ہے، اس کی قدر کیجیے اور اسے اپنے ہی ہاتھوں برباد ہونے سے بچائیے۔ اس موقع پر کسی ذاتی تشہیر، نام و نمود یا دنیاوی مفاد سے بالاتر ہو کر، صرف اور صرف خالص خدمتِ خلق، سماجی بیداری اور قوم کے بچوں کے مستقبل کو بربادی سے بچانے کے تڑپتے ہوئے جذبے کے تحت، آوازِ نرمل نیوز کے ایڈیٹر ان چیف عثمان بن عقیل اور ان کی پوری ٹیم نے اس مہم میں اپنی مخلصانہ خدمات پیش کیں تاکہ حق و صداقت کی یہ مصلحانہ آواز ہر گھر کے آنگن تک پہنچ سکے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post