نرمل کی تاریخی درگاہ صوفی نگر میں قطبِ عالم قلندرِ اعظم حضرت صوفی حسین علی شاہ قادری شطاری سرمدی سرمست قلندریؒ کا 99 واں سالانہ عرسِ مبارک عقیدت و احترام کے ساتھ اختتام پذیر



 

رپورٹ: آوازِ نرمل نیوز — 4 جون: شہرِ نرمل کی تاریخی و مشہورِ زمانہ خانقاہ، درگاہ صوفی نگر میں ہر سال کی طرح امسال بھی قطبِ عالم، قلندرِ اعظم حضرت صوفی حسین علی شاہ قادری شطاری سرمدی سرمست قلندری رحمۃ اللہ علیہ کا سالانہ 99 واں سہ روزہ عرسِ پاک نہایت ہی شان و شوکت اور روحانی ماحول میں مکمل ہوا۔ عرسِ مبارک کی تین روزہ تقاریب کا آغاز 15 ذی الحجہ 1447 ھ کو عرس کے پہلے دن دیر رات مزارِ انور پر روایتی صندل مالی، غلاف اور چادرِ گل پیش کرنے سے ہوا، جہاں بارگاہِ صوفی میں عقیدت مندوں نے والہانہ انداز میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا اور فاتحہ خوانی و سلام کے بعد ملک و ملت کی امن و سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں۔ عرس کے دوسرے دن خانقاہِ عالیہ میں 'جشنِ چراغاں' منایا گیا، جس کے تحت پوری درگاہ شریف کو خوبصورت روشنیوں اور چراغوں سے جگمگا دیا گیا، جبکہ ملک و ریاست کے کونے کونے سے لائے گئے غلاف اور گلہائے عقیدت مزارِ مبارک پر پیش کیے گئے۔ بعد نمازِ عشاء 'جلسہ عظمتِ اولیاء' منعقد ہوا، جس میں جید علماءِ کرام اور مشائخِ عظام نے صوفیائے کرام کی انسانیت نواز تعلیمات اور حضرت صوفی کے حالاتِ زندگی پر تفصیلی روشنی ڈالی، جس کے فوراً بعد روح پرور 'محفلِ سماع' کا انعقاد عمل میں آیا، جہاں ملک کے نامور قوالوں نے اپنے مخصوص انداز میں صوفیانہ کلام پیش کرکے سامعین پر وجدانی کیفیت طاری کر دی۔ عرسِ پاک کے تیسرے اور آخری دن 'محفلِ بداواں' کا انعقاد ہوا، جس کا آغاز صبح قرآن خوانی اور حلقۂ ذکر سے ہوا، جس کے بعد الوداعی قوالی کی پیشکشی اور درگاہ شریف میں خصوصی فاتحہ خوانی انجام دی گئی اور تبرکات کی وسیع پیمانے پر تقسیم کے ساتھ یہ عظیم الشان عرسِ مبارک اختتام پذیر ہوا۔ واضح رہے کہ عرس کی تمام رسومات اور زائرین کے لیے لنگرِ عام سمیت تمام انتظامات سجادہ نشین حضرت صوفی شاہ محمد ذاکر حسین ذیشان پاشاہ المعروف 'نواز علی شاہ قادری شطاری' کی زیرِ صدارت و نگرانی انتہائی شاندار طریقے سے انجام پائے، جس میں ملک کے دور دراز علاقوں سے آئے ہزاروں مریدین، خلفاء اور معتقدین نے شرکت کر کے فیضانِ صوفی حاصل کیا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post