بنگال میں 27 لاکھ مسلمانوں کی خاموش سیاسی موت: کیا اب بھی ملتِ اسلامیہ خوابِ خرگوش میں رہے گی؟
byAWAZ E NIRMAL NEWS•
0
رپورٹ: آوازِ نرمل نیوز | بتاریخ: 5 مئی 2026مغربی بنگال کے حالیہ انتخابی نتائج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سیاسی بساط پر مسلمانوں کے خلاف ایک ایسی گہری سازش رچی جا چکی ہے جس کا انجام ہولناک ہے؛ محض ایک تکنیکی وار سے 27 لاکھ مسلم ووٹروں کے نام لسٹ سے غائب کر دیے گئے اور 30 فیصد آبادی رکھنے والی قوم محض 2 فیصد کے فرق سے شکست خوردہ ہو کر بی جے پی کی حکومت بننے کا تماشہ دیکھ رہی ہے۔ سابق کونسلر ایم آئی ایم جناب رفیع احمد قریشی نے لہو رلا دینے والے ان حقائق پر قوم کو جھنجھوڑتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اگر آج بھی ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو ہماری آنے والی نسلیں بے گھر اور بے وطن کر دی جائیں گی۔ یاد رکھیے! 26 اپریل 2026 سے شروع ہونے والی مردم شماری محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ آپ کے وجود کی بقا کی جنگ ہے، لہٰذا فوراً اپنے موبائل اٹھائیے اور 'سیلف اینومریشن' لنک کے ذریعے اپنے خاندان کے ایک ایک فرد کا اندراج یقینی بنائیے کیونکہ ایک او ٹی پی کی سستی آپ کو عمر بھر کی دربدر کی ٹھوکریں دے سکتی ہے۔ ایس آئی آر (SIR) کے نام پر ہونے والی میپنگ میں 2002 کی ووٹر لسٹ سے اپنے بزرگوں کے ناموں کا ربط جوڑنا اور بی ایل او کے دیے گئے اسکرین شاٹ کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھنا اب فرض بن چکا ہے، کیونکہ یہی وہ دستاویز ہے جو کل عدالتوں اور سرکاری دفتروں میں آپ کی شہریت کی ڈھال بنے گی۔ بنگال کا الیکشن ہمارے لیے عبرت کا نشان ہے جہاں لاکھوں مسلمانوں کو ووٹ کے حق سے محروم کر کے اقتدار کی کرسی چھین لی گئی؛ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جاگ جائیں ورنہ تاریخ کے صفحات میں ہمارا ذکر صرف ایک المیہ بن کر رہ جائے گا، کیونکہ یاد رہے کہ 'لمحوں نے خطا کی تھی اور صدیوں نے سزا پائی'۔