عقیدہ ختمِ نبوت کی حفاظت کے لیے علمائے حق میدان میں، ہٹ دھرم فتنہ پروروں کی گمراہ کن سازشیں ناکام

رپورٹ: آوازِ نرمل نیوز | 30 اپریل 2026ءعقیدہ ختمِ نبوت اسلام کی وہ اساسی بنیاد ہے جس پر دینِ متین کی پوری عمارت استوار ہے اور اس کے تحفظ کے لیے ہر دور میں علمائے حق نے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں۔ ضلع عادل آباد میں حالیہ دنوں میں ایک سنگین صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ملعون شکیل بن حنیف کے گمراہ کن فتنے نے اپنے ناپاک پاؤں جمانے کی کوشش کی۔ اطلاع موصول ہوئی کہ عبد الکریم نامی ایک شخص، جو شہر عادل آباد کے محلہ خانہ پور کا متوطن ہے، ترکاری کے کاروبار کے بہانے شہر اور اطراف و اکناف کے علاقوں میں مسلمانوں، بالخصوص دیہی علاقوں کے سادہ لوح نوجوانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈال رہا ہے۔ یہ شخص آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ مبارکہ کی من مانی اور باطل تشریحات کے ذریعے لوگوں کو شکیل بن حنیف کی جھوٹی نبوت اور مہدویت کی طرف راغب کرنے کی مذموم مہم میں مصروف تھا۔ جب یہ فتنہ سات نالہ گاؤں میں سرگرم تھا، تو مقامی بیدار مغز نوجوانوں، محترم عرفان اور محترم رضوان نے بروقت ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ ضلع عادل آباد کے ذمہ داران کو مطلع کیا۔ اطلاع ملتے ہی مفتی سردار قاسمی کی قیادت میں متحرک علماء کا وفد، جس میں مولانا شمیم قاسمی، مفتی عبدالوحید مظاہری، مفتی سہیل ممتاز قاسمی، مولانا قاضی عمر قاسمی، مولانا منیر الدین رشیدی، مولانا ساجد قاسمی اور مولانا شاہد قاسمی سمیت دیگر اکابرین شامل تھے، جائے وقوعہ پر پہنچا اور اسے توبہ کی ترغیب دی، لیکن اس نے کمالِ ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے بغیر کسی دلیل کے شکیل بن حنیف کو اپنا پیشوا ماننے کا اعتراف کیا۔ علماء کے ٹھوس اور عقلی سوالات پر وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا اور جب اس کی کونسلنگ کی گئی تو اس نے صاف کہہ دیا کہ وہ اپنے باطل نظریات سے پیچھے نہیں ہٹے گا، جس سے ان فتنہ پروروں کی ذہنی خباثت پوری طرح عیاں ہو گئی۔ اسی تسلسل میں ساجد نامی ایک اور مبلغِ شکیلیت کو نرمل اور پوچم پاڈ کے بیدار علماء و دانشوران نے اپنی گرفت میں لیا۔ یہ پوری کارروائی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ جب تک منبر و محراب کے وارث بیدار ہیں، کوئی بھی باطل فتنہ مسلمانوں کے عقائد کو متزلزل نہیں کر سکتا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے علماء سے رشتہ مضبوط رکھیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع اپنے ائمہ کو دیں۔