تاریخِ دکن کا وہ لرزہ خیز دن: پندرہ برس قبل اکبر الدین اویسی پر ہونے والا قاتلانہ حملہ اور معجزانہ سلامتی
byAWAZ E NIRMAL NEWS•
0
رپورٹ: آوازِ نرمل نیوز، 30 اپریل 2026— سیاسی تاریخ کے اوراق میں 30 اپریل 2011 کا دن ایک ایسے سیاہ باب کے طور پر درج ہے جس نے نہ صرف ریاست تلنگانہ بلکہ پورے ملک کے سیاسی ایوانوں میں ارتعاش پیدا کر دیا تھا، جب حیدرآباد کے علاقے چندرائن گٹہ میں تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی پر ایک ہولناک قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ آج اس واقعے کو مکمل پندرہ برس بیت چکے ہیں، اور ان کا بحفاظت ہمارے درمیان موجود رہنا بلاشبہ قادرِ مطلق کا وہ خاص کرم، معجزہ اور نبیِ آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے صدقے و طفیل کی برکت ہے جس نے موت کے مہیب سائے سے نکال کر انہیں نئی زندگی عطا فرمائی۔ ایک نڈر اور بیباک عوامی ترجمان کی حیثیت سے اکبر الدین اویسی نے ہمیشہ ایوانِ اقتدار میں وقت کے حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر محروم طبقوں کی وکالت کی ہے اور تلنگانہ کے مسلمانوں کے مسائل کو پوری قوت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ان کی خدمات محض سیاست تک محدود نہیں ہیں، بلکہ تعلیمی مشن کا فروغ، طبی سہولیات کی فراہمی اور غریب نوجوانوں کو فنی تربیت کے ذریعے معاشی پیروں پر کھڑا کرنے جیسے اقدامات ان کی دور اندیشی اور ملی ہمدردی کا بین ثبوت ہیں۔ غریبوں کی مالی دستگیری اور پس ماندہ عوام کی بے لوث خدمت ان کا وہ خاصہ ہے جس کی وجہ سے آج بھی عوام کے دلوں میں ان کے لیے والہانہ محبت اور دعائیں موجود ہیں۔ سابق کونسلر ایم آئی ایم گلزار مارکیٹ نرمل، رفیع احمد قریشی سمیت ملت کے تمام طبقے اس موقع پر بارگاہِ الٰہی میں سجدۂ شکر بجا لاتے ہوئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ خاندانِ اویسی کو تادیر سلامت رکھے، قائدِ ملت کو صحتِ کاملہ کے ساتھ طویل عمر عطا فرمائے اور ان کا سایہ قوم پر ہمیشہ قائم رہے۔