نرمل میں ووٹر لسٹوں کی نظرِ ثانی کا عمل عوامی پریشانی کا سبب بن گیا؛ سماجی کارکنوں کا شدید احتجاج


 رپورٹ: آوازِ نرمل نیوز | 24 اپریل 2026 نرمل، تلنگانہ: ریاست تلنگانہ میں ووٹر لسٹوں کی جاری خصوصی نظرِ ثانی (SIR) کے پیچیدہ طریقہ کار اور حکام کی عدم توجہی پر ضلع نرمل کے ممتاز سماجی کارکنوں نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوامی سہولت کے بجائے زحمت قرار دیا ہے۔ سابق بلدی نائب صدور ایم اے علیم، وجید احمد خان، سابق ضلع پریشد کوآپشن ممبر محمد عتیق احمد، سید کلیم صبا اور سید خواجہ اکرم علی نے ایک مشترکہ بیان میں حکام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ سال 2002 کی ووٹر لسٹوں سے موجودہ ڈیٹا کی میپنگ کا عمل نقائص سے بھرپور ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں ووٹرز اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید بے یقینی اور اضطراب کا شکار ہیں۔ بی ایل اوز (BLOs) کی تربیت میں کمی اور ضوابط سے ناواقفیت کے باعث عوام کو درست رہنمائی نہیں مل رہی، جبکہ فیملی میپنگ کے نام پر میاں بیوی کے ریکارڈز میں تضاد اور خواتین کو والدین کے پرانے ریکارڈ سے جوڑنے کی شرط نے ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے، بالخصوص ان خواتین کے لیے جن کے والدین اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ مزید برآں، اردو داں علاقوں میں لسانی نابلد عملے کے تقرر نے مواصلاتی خلیج پیدا کر دی ہے جس سے شکایات کے ازالے میں سخت دشواری پیش آ رہی ہے۔ سماجی کارکنوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ منڈل اور وارڈ کی سطح پر فوری رہنمائی مراکز قائم کیے جائیں اور اس پورے عمل کو سادہ و شفاف بنا کر شہریوں کے جمہوری حق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post