تلنگانہ کی سیاست میں بڑا دھماکہ: پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کی سیاسی خود مختاری کے لیے TRP اور MBT کا فقید المثال اتحاد





 رپورٹ: آوازِ نرمل نیوز، 24 اپریل 2026: ریاست تلنگانہ کے سیاسی افق پر ایک ایسا نیا سورج طلوع ہوا ہے جس نے روایتی سیاست کے علمبرداروں کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے، تلنگانہ راجیا ادھیکار پارٹی (TRP) اور مجلس بچاؤ تحریک (MBT) نے ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر "سماجی انصاف اور سیاسی بااختیاری" کے مشترکہ مشن کا اعلان کر کے ریاست کی سیاسی سمت تبدیل کرنے کا بگل بجا دیا ہے، حیدرآباد کے پریس کلب صومالی گوڑہ میں منعقدہ ایک پروقار پریس کانفرنس میں ٹی آر پی کے صدر چنتا پانڈو نوین کمار عرف تین مار ملنا (ایم ایل سی) اور ایم بی ٹی کے شعلہ بیاں ترجمان امجد اللہ خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اب "جتنی آبادی، اتنی ساجھے داری" محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک حقیقت بنے گی، دونوں قائدین نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ دہائیوں سے پسماندہ طبقات (BCs) اور اقلیتوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا گیا لیکن اب اقتدار کی راہداریوں میں ان کی حقیقی حصے داری کا وقت آ چکا ہے، تین مار ملنا نے ریاست میں تعلیمی استحصال اور "رائٹ ٹو ایجوکیشن" کی پامالی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نجی تعلیمی اداروں کی من مانیوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور 26 اپریل کو اندرا پارک میں ہونے والے عظیم الشان احتجاجی جلسے کو تعلیمی انصاف کی بنیاد قرار دیا، اسی تسلسل میں امجد اللہ خان نے کانگریس اور بی آر ایس پر اقلیتوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وقف بورڈ اور اقلیتی مالیاتی کارپوریشن جیسے ادارے عملی طور پر غیر فعال ہو چکے ہیں اور مسلمانوں میں بڑھتی ہوئی سیاسی بیگانگی کا حل اب اس نئے اتحاد کی صورت میں سامنے آیا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی سی اور مسلم اتحاد ریاست کی 70 فیصد سے زائد آبادی کی نمائندگی کرتا ہے جو مستقبل میں اقتدار کی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، اس سیاسی سنگ میل کے بعد اب دونوں جماعتیں ریاست گیر طوفانی دوروں اور گھر گھر مہم کا آغاز کریں گی تاکہ مظلوم اور محروم طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر کے تلنگانہ کی سیاست سے خاندانی اور اجارہ دارانہ نظام کا خاتمہ کیا جا سکے، اس اعلان نے جہاں عوامی حلقوں میں جوش و خروش پیدا کر دیا ہے وہیں اسے تلنگانہ کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم ترین موڑ تسلیم کیا جا رہا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post