آئینِ ہند کا معمارِ اعظم: مٹی کے چراغ سے انسانیت کے آفتاب تک کا لافانی سفر
byAWAZ E NIRMAL NEWS•
0
خصوصی تحریر: بابا صاحب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی حیات و خدمات انسانی تاریخ کے افق پر بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، بلکہ وہ خود ایک ایسی تاریخ ہیں جس نے صدیوں کی غلامی کی زنجیروں کو اپنے علم کی دھار سے کاٹ کر رکھ دیا۔ 14 اپریل 1891 کو مہو کی سرزمین پر جنم لینے والا یہ بچہ بظاہر حالات کا قیدی تھا، مگر اس کے سینے میں پلنے والا عزم پہاڑوں سے زیادہ مضبوط نکلا۔ بچپن میں اسکول کی دہلیز پر بیٹھ کر پیاس اور پسماندگی کے جو زخم انہوں نے سہے، انہیں نفرت کے بجائے حکمت میں بدلا اور دنیا کی عظیم ترین درسگاہوں سے علم کا وہ خزانہ سمیٹا جس کی نظیر آج بھی نہیں ملتی۔ انہوں نے قلم کو اپنی تلوار بنایا اور 'ستیہ گرہ' سے لے کر 'دستورِ ہند' کی تخلیق تک، ایک ایسے ہندوستان کا خواب بننا جہاں انسان کی پہچان اس کی ذات سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور قابلیت سے ہو۔ 1956 میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہونے تک، بابا صاحب نے نہ صرف ملک کو ایک ایسا آئین دیا جو کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہے، بلکہ خواتین کی آزادی، مزدوروں کے حقوق اور سماجی برابری کا وہ درس دیا جو رہتی دنیا تک انسانیت کا سر فخر سے بلند کرتا رہے گا۔ آج ان کی جینتی محض ایک تقریب نہیں، بلکہ ان کے اس عہد کو دہرانے کا دن ہے کہ تعلیم، اتحاد اور مسلسل جدوجہد ہی وہ واحد راستہ ہے جو کسی بھی قوم کو پستی سے نکال کر عروج کی بلندیوں پر فائز کر سکتا ہے۔ ادارہ: آوازِ نرمل نیوز ایڈیٹر ان چیف: عثمان بن عقیل