علم و دانش کے میدان میں نرمل کے سپوتوں کا معرکہ؛ 'ٹمرز' کالجز کے نتائج نے کامیابی کی نئی داستان رقم کر دی!


رپورٹ: آوازِ نرمل نیوز، 14 اپریل 2026 — عزمِ صمیم اور پیہم جدوجہد جب یکجا ہو جائے تو کامیابی قدم چومتی ہے، اس حقیقت کی جیتی جاگتی تصویر ضلع نرمل کے اقلیتی اقامتی جونیئر کالجز (TMREIS) نے انٹرمیڈیٹ کے سالانہ نتائج میں پیش کی ہے، جہاں اس تعلیمی سال نونہالوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کا ایسا مظاہرہ کیا کہ ضلع کا تعلیمی افق درخشاں ہو اٹھا اور کامیابی کی یہ گونج ہر سو سنائی دے رہی ہے۔ ریجنل کوآرڈینیٹر کیپٹن محمد سلیم الدین کی بصیرت افروز قیادت میں ان اداروں نے جو سنگِ میل عبور کیا ہے وہ دورِ حاضر میں اردو طبقے کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں، جہاں مجموعی طور پر سالِ دوم میں 90 فیصد اور سالِ اول میں 79 فیصد طلبہ نے کامیابی کا سہرا اپنے سر سجا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ سرکاری سرپرستی میں چلنے والے یہ ادارے معیارِ تعلیم میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ کامیابی کے اس سفر میں خانہ پور بوائز کالج نے 96 فیصد کے ساتھ سبقت حاصل کی، جبکہ نرمل اور مدہول کے مراکزِ علم نے بھی 90 فیصد سے زائد نتائج دے کر اپنی علمی جڑوں کی مضبوطی کا ثبوت دیا، بالخصوص عائشہ صدیقہ کی بائی پی سی میں 985 نشانات کے ساتھ حاصل کردہ پہلی پوزیشن اور سی ای سی گروپ میں نمرہ خانم و بی بی ہاجرہ کی 984 نمبرات کی غیر معمولی کارکردگی نے ثابت کر دیا کہ صنفِ نازک کسی بھی میدان میں مردوں سے پیچھے نہیں ہیں۔ سالِ اول میں خدیجہ الکبریٰ، جوہریہ ناز اور نشاط بیگم کے مثالی نمبرات نے مستقبل کے لیے امیدوں کے نئے چراغ روشن کیے ہیں، جس پر ضلع اقلیتی بہبود کے افسر موہن سنگھ، ویجیلنس آفیسر عبدالقدیر، شیخ طاہر الدین اور اکیڈمک کوآرڈینیٹر سید حمید الدین نے اساتذہ کی جفاکشی اور والدین کی دعاؤں کو اس کامیابی کا محور قرار دیتے ہوئے تمام کامیاب طلبہ کو ہدیہ تبریک پیش کیا ہے، جبکہ سیکریٹری بی شفیع اللہ کی ان تھک کاوشوں کو سراہتے ہوئے عوامِ نرمل سے پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی خاطر ان اداروں میں جاری داخلوں کے سنہری مواقع سے فیض یاب ہوں۔


Post a Comment

Previous Post Next Post