خصوصی رپورٹ: عثمان بن عقیل (ایڈیٹر ان چیف - آوازِ نرمل نیوز)بتاریخ: 12 مارچ 2026ءنرمل شہر کے مضافاتی علاقے وائی ایس آر کالونی میں اس وقت عوامی شعور کا ایک نیا باب رقم ہوا جب نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (NDRF) کے ماہرین نے زندگی بچانے کی عملی تربیت کا آغاز کیا۔ انسپکٹر منموہن سنگھ یادو نے ایک منصفانہ اور پراعتماد لہجے میں مجمع کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ ناگہانی آفات کسی کا انتظار نہیں کرتیں، بلکہ ہماری بروقت چوکسی ہی موت اور زندگی کے درمیان اصل فاصلہ طے کرتی ہے۔ انہوں نے انتہائی روانی کے ساتھ واضح کیا کہ سیلاب، زلزلے یا آگ کے بے قابو شعلوں کے دوران محض چند لمحوں کی درست حکمتِ عملی ایک پورے خاندان کو تباہی سے بچا سکتی ہے۔ اس پروگرام کا اصل مقصد عوام کے اندر اس خود اعتمادی کو پیدا کرنا تھا کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں امداد کا انتظار کرنے کے بجائے خود "محافظ" بن کر ابھریں اور انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔اس بیداری مہم کی کامیابی میں مقامی انتظامیہ اور سماجی شخصیات کا اشتراک دیدنی تھا، جس نے ثابت کیا کہ عوامی تحفظ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ نرمل اربن ایم آر او مارو پیڈا راجو، ہیڈ مسٹریس سملتا، محمد خالد احمد، آر آئی معین الدین اور جی پی او اسماعیل نے اپنی موجودگی سے اس مقصد کو تقویت بخشی۔ وارڈ نمبر 22 کے کونٹیسٹڈ کونسلر ایم ڈی منہاج کی خصوصی محنت کے نتیجے میں خواتین، طلباء اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اس تربیتی سیشن میں عملی طور پر حصہ لیا۔ شرکاء نے نہ صرف حادثات سے بچاؤ کے طریقے سیکھے بلکہ یہ عزم بھی کیا کہ وہ ان معلومات کو معاشرے کے ہر فرد تک پہنچائیں گے تاکہ ایک محفوظ اور باخبر سماج کی تشکیل ممکن ہو سکے۔ آوازِ نرمل کی یہ خصوصی پیشکش دراصل ایک محفوظ مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ہے
۔

0 Comments