crossorigin='anonymous' src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-1124113559384353'/> crossorigin='anonymous' src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-1124113559384353'/> نرمَل کی فضاؤں میں اخوت و محبت کا پیغام: مسجدِ چوک میں 'دعوتِ افطار و طعام' کے ذریعے گنگا جمنی تہذیب کی لازوال مثال

نرمَل کی فضاؤں میں اخوت و محبت کا پیغام: مسجدِ چوک میں 'دعوتِ افطار و طعام' کے ذریعے گنگا جمنی تہذیب کی لازوال مثال

 

برادرانِ وطن کا پُرتپاک استقبال، پروفیسر ذاکر الدین کا بین المذاہب ہم آہنگی پر بصیرت افروز خطاب، اتحاد و رواداری کا عظیم الشان مظاہرہ





آوازِ نرمَل کی خصوصی پیشکش: عثمان بن عقیل | تاریخ: 19 مارچ 2026
نرمَل (بیورو رپورٹ): جہاں آج کے پُرآشوب دور میں نفرتیں فاصلے پیدا کر رہی ہیں، وہیں ضلع نرمَل کے تاریخی و تجارتی مرکز گاندھی چوک (جمعرات پیٹھ) میں واقع مسجدِ چوک کے زیرِ اہتمام رواداری، ایثار اور انسانیت نوازی کی ایک ایسی درخشاں مثال پیش کی گئی جس نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی تاریخ میں ایک نیا سنہرا باب رقم کر دیا ہے۔ مقامی مسلم نوجوانوں کے جوش و جذبے سے منعقدہ اس پُروقار 'دعوتِ افطار و طعام' میں برادرانِ وطن کی کثیر تعداد بشمول گنیش، پردیپ، ستے نارائن، کرشنا، سینو، چیتنیا، حریف، سندیپ، ویجو اور سائیں نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کر کے اس محفل کو آپسی اعتماد اور محبت کا گہوارہ بنا دیا؛ جبکہ سیاسی و سماجی شخصیتوں میں مجلس اتحاد المسلمین نرمَل ٹاؤن کے صدر مجاہد علی، سابق کونسلر رفیع احمد قریشی، شیخ سلمان اور کبیر نے بھی مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے رونق افروز ہو کر پروگرام کی اہمیت کو دوچند کر دیا۔
​اس ایمان افروز اور پرنور موقع پر مسجد کمیٹی کے کلیدی ذمہ دار پروفیسر ذاکر الدین نے تلگو زبان میں نہایت فصیح و بلیغ اور مدلل خطاب کرتے ہوئے اسلام کے آفاقی تصورِ وحدانیت کی تشریح کی اور انسانیت کو ایک لڑی میں پرونے کا پیغام دیا۔ انہوں نے برملا کہا کہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ 'رب العالمین' ہے، جو تمام کائنات کا خالق و مالک ہے، اس لیے ہمارا فرض ہے کہ ہم اسی خالق کی مخلوق کے درمیان دوریوں کو سمیٹ کر 'مذہبی ہم آہنگی' کا علم بلند کریں۔ پروفیسر صاحب نے سیرتِ طیبہ ﷺ کے روشن پہلوؤں، غیر مسلم پڑوسیوں کے حقوق اور جہاد کی حقیقی روح یعنی اپنے نفس کی برائیوں کے خلاف مسلسل جدوجہد پر روشنی ڈالتے ہوئے صومِ رمضان کو 'تزکیہِ نفس' (Purification of Soul) اور روحانی پاکیزگی کا بہترین ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے شرکاء کو ترغیب دی کہ وہ ایک دوسرے کے مذاہب اور مقدس کتابوں کا مطالعہ کریں تاکہ غلط فہمیاں کافور ہوں۔
​تقریب کے دوران محبتوں کے تبادلے کا منظر اس وقت دیدنی تھا جب مسجد کمیٹی کی جانب سے تمام غیر مسلم مہمانوں اور معزز مسلم قائدین کی روایتی طور پر شال پوشی کی گئی اور انہیں پُرتپاک انداز میں الوداع کیا گیا۔ اس یادگار اور تاریخ ساز پروگرام کی منصوبہ بندی سے لے کر کامیابی تک مرزا آصف بیگ اور فہیم کی شبانہ روز انتھک محنت، مخلصانہ لگن اور بہترین انتظامی نظم و ضبط کا کلیدی نقش رہا، جن کے ہمراہ پُرجوش نوجوانوں کی پوری ٹیم نے اپنی بے لوث خدمات پیش کیں۔ اس موقع پر مسجد کمیٹی کے صدر خلیل بن صلاح، ذمہ داران متیعب بن محمد، محسن بن محمد، محمد قاسم، سمیر، امین پٹیل، عظیم، عدنان بن عقیل، سلیمان بن عثمان، دانش، مرزا شعیب اور دیگر کئی مخلص نوجوانوں نے مہمانوں کی پُرتکلف ضیافت اور جملہ انتظامات میں پیش پیش رہ کر اس تقریب کو نرمَل کی قدیم گنگا جمنی تہذیب کا ایک حسین اور ناقابلِ فراموش سنگِ میل بنا دیا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post