crossorigin='anonymous' src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-1124113559384353'/> crossorigin='anonymous' src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-1124113559384353'/> نرمل کی سر زمین پر "عظیم الشان ضیافتِ افطار و طعام": فہیم قریشی نے عیدگاہ اور حج ہاؤس کا 'منظوری نامہ' قوم کے حوالے کر دیا

نرمل کی سر زمین پر "عظیم الشان ضیافتِ افطار و طعام": فہیم قریشی نے عیدگاہ اور حج ہاؤس کا 'منظوری نامہ' قوم کے حوالے کر دیا


اہلیانِ نرمل کی طویل جدوجہد رنگ لائی؛ 5 ایکڑ عیدگاہ اور 2 ایکڑ حج ہاؤس کی منظوری، غریب طبقے کے لیے "مسلم کمیونٹی ہال" کا بھی شاہانہ اعلان







خصوصی رپورٹ آوازِ نرمل نیوز : تاریخی و یادگار سنگِ میل
گلستانِ مصطفیٰ کی خوشبوؤں اور ماہِ صیام کی مقدس ساعتوں کے سائے میں، گذشتہ روز وشواناتھ پیٹ کے آر آر گارڈن میں ایک ایسی روح پرور اور عظیم الشان محفلِ "ضیافتِ افطار و طعام" کا انعقاد عمل میں آیا، جسے نرمل کی تاریخ میں ہمیشہ ایک سنہرے باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اس پروقار تقریب کے میزبان جناب سید ارجمن علی اور ان کے رفقاء تھے، جنہوں نے کمالِ محبت اور روایتی تہذیب کے ساتھ تمام مہمانوں کا پرجوش استقبال کیا۔ یہ محفل اس وقت ایک تاریخی کامیابی میں بدل گئی جب نرمل کے مسلمانوں کے لیے برسوں سے جاری کوششیں اور مطالبات حقیقت کا روپ دھار کر سامنے آئے۔
تاریخ ساز کامیابی اور دستاویزات کی حوالگی:
تقریب کے مہمانِ خصوصی، جناب محمد فہیم قریشی (وائس چیئرمین و صدر ٹی ایم آر ای آئی ایس) نے اپنے بصیرت افروز خطاب میں اہلیانِ نرمل کو وہ مژدہ سنایا جس کا پوری قوم کو بے صبری سے انتظار تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومتِ تلنگانہ نے نرمل کے مسلمانوں کی ضرورت اور جذبات کا احترام کرتے ہوئے 5 ایکڑ اراضی برائے عیدگاہ اور 2 ایکڑ اراضی برائے حج ہاؤس کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ فہیم قریشی نے اسی عوامی مجمع میں ان اراضیات کے سرکاری دستاویزات (پرو سیڈنگ کاپی) مقامی ذمہ داروں کے حوالے کیں، جس پر پورا پنڈال مسرت و شادمانی کے نعروں سے گونج اٹھا۔ اسے ایک سیاسی اعلان کے بجائے نرمل کے مسلمانوں کے لیے ایک "عظیم الشان تحفہ" قرار دیا جا رہا ہے۔
غریب عوام کا درد اور سماجی ضرورت:
شہر کی سماجی صورتحال اور غریب طبقے کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے فہیم قریشی نے ایک اور بڑے منصوبے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ نرمل کی بڑی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے اور مستحق خاندانوں کو شادی بیاہ کے لیے مہنگے فنکشن ہالز کے مالی بوجھ سے نجات دلانے کے لیے، محکمہ اقلیتی بہبود کے تعاون سے ایک وسیع و عریض "مسلم کمیونٹی ہال" تعمیر کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد غریب خاندانوں کی بیٹیوں کی شادیوں کو آسان بنانا اور انہیں بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔
قیادت کی کہکشاں اور میزبان کی ستائش:
اس باوقار محفل میں ریاست اور ضلع کی نامور شخصیات نے شرکت کر کے اتحاد و یگانگت کا ثبوت دیا۔ معزز مہمانوں میں ویدما بھوجو پٹیل (رکنِ اسمبلی خاناپور)، کُچادی سری ہری راؤ (انچارج کانگریس پارٹی، نرمل)، اللولا اندرا کرن ریڈی (سابق وزیر)، وینو گوپال چاری (سابق مرکزی وزیر)، ڈی ویٹل (رکنِ قانون ساز کونسل)، اپالا گنیش چکرورتی (میونسپل وائس چیئرمین)، ڈی سی سی بی ساجد، ستو ملّیش اور بلدیہ کے کونسلرز و دیگر قائدین نمایاں تھے۔ تمام مقررین نے میزبان جناب سید ارجمن علی کی مخلصانہ جدوجہد اور بہترین انتظامات کی بھرپور ستائش کرتے ہوئے انہیں ایک ابھرتا ہوا فعال رہنما قرار دیا۔
رقت آمیز دعا اور افطار:
افطار کے مبارک وقت سے قبل، بارگاہِ الٰہی میں رقت آمیز اجتماعی دعا کی گئی، جس میں ملک و ملت کی سلامتی، امتِ مسلمہ کی سربلندی اور ریاست کی مجموعی ترقی کے لیے خصوصی التجائیں کی گئیں۔ دعا کے بعد ہزاروں روزہ داروں نے ایک ساتھ روزہ افطار کیا اور بعد ازاں ضیافتِ طعام کا اہتمام کیا گیا۔ یہ تقریب نرمل کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسی یادگار بن گئی ہے جو آنے والے کئی عشروں تک یاد رکھی جائے گی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post