نرمل (خصوصی رپورٹ - آوازِ نرمل): 21 مارچ 2026
شہرِ نرمل کی مرکزی عیدگاہ میں آج عیدالفطر کی نماز روایتی عقیدت و احترام اور ایمانی جوش و خروش کے ساتھ ادا کی گئی، جس میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی۔ نماز کی امامت و خطابت کے فرائض مولانا مبین صاحب (امام و خطیب جامع مسجد نرمل) نے انجام دیے۔ عیدگاہ کا منظر آج دیدنی تھا، جہاں ہر طرف سروں کا سمندر نظر آ رہا تھا۔ تاہم، شہر کی مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی اور فرزندانِ توحید کے والہانہ جذبے کے سامنے عیدگاہ کا موجودہ رقبہ اب انتہائی تنگ پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ عیدگاہ کے اندرونی حصے میں تل دھرنے کی جگہ باقی نہ رہنے کی وجہ سے ہزاروں مصلیوں کو شدید تنگی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ باہر سڑکوں پر صفیں بچھا کر نماز ادا کرنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ اب عیدگاہ کی توسیع یا کسی بڑے متبادل انتظام پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تاکہ آئندہ برسوں میں زائرین کو اس طرح کی مشقت سے بچایا جا سکے۔
دوسری جانب، انتظامی سطح پر میونسپلٹی اور پولیس کا تعاون قابلِ ستائش رہا۔ بلدیہ کی جانب سے مصلیوں کی راحت کے لیے پینے کے پانی کی بوتلوں کا بہترین انتظام کیا گیا تھا، جبکہ وضو اور صوتی نظام (Sound System) کی سہولیات بھی اطمینان بخش رہیں۔ پولیس محکمہ نے بھی ٹریفک اور سیکورٹی کے امور کو نہایت خوش اسلوبی سے سنبھالا۔ نماز کے اختتام پر محمد سلمان شیخ (انچارج کمیٹی جامع مسجد نرمل) نے اپنے اختتامی کلمات میں تمام اہلِ شہر کو عید کی پرخلوص مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بہترین نظم و ضبط برقرار رکھنے پر عوام کا شکریہ ادا کیا اور بالخصوص محکمہ بلدیہ و محکمہ پولیس کی جانب سے کیے گئے انتظامات کی تعریف کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔







