مستقبل کی ضروریات کے پیشِ نظر ذخائرِ آب کا حکمتِ عملی کے ساتھ استعمال کیا جائے گا: کلیکٹر بھاویش مشرا



 رپورٹ: آوازِ نرمل نیوز | 8 اگست 2026ء — ضلع میں موجود آبی ذخائر کے پانی کو مستقبل کی ضروریات کے پیشِ نظر سائنسی اور منصوبہ بند طریقہ کار کے تحت استعمال کرنے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ضلع کلیکٹر بھاویش مشرا نے کیا۔ ہفتہ کی شام کلکٹریٹ کانفرنس ہال میں منعقدہ اریگیشن ایڈوائزری کمیٹی کے اہم اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اگرچہ ضلع میں اب تک تسلی بخش بارش ہوئی ہے، تاہم چند منڈلوں میں 20 فیصد کے قریب بارش کی کمی درج کی گئی ہے۔ آنے والے ایام میں 'ایل نینو' کے اثرات کے باعث کم بارش کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشگی حکمتِ عملی کے تحت آبی وسائل کی نگہداشت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ کلیکٹر نے وضاحت کی کہ سری رام ساگر پروجیکٹ (SRSP) کے ذریعہ ضلع کی تقریباً 35 ہزار ایکڑ اور کدم پروجیکٹ کے ذریعہ 6 ہزار ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کے امکانات موجود ہیں۔ گرام سبھاؤں کے ذریعہ کسانوں کو موجودہ صورتحال سے واقف کروایا جا رہا ہے اور زراعت کے ماہرین انہیں کم مدتی و متبادل فصلوں، بالخصوص ارہر (تُور) کی کاشت کی طرف راغب کر رہے ہیں۔ اس سال ضلع میں ارہر کی کاشت کا رقبہ 6 ہزار ایکڑ سے بڑھا کر 10 ہزار ایکڑ کر دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، زیرِ زمین پانی کی سطح برقرار رکھنے کے لیے 'تشرینِ جل سری' اسکیم کے تحت 2,026 فارم پانڈس کے ہدف کے مقابلے میں 3,000 سے زائد کسانوں کا آگے آنا آئندہ کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ اس پریس کانفرنس میں ایڈیشنل کلیکٹر (ریونیو) کشور کمار، اریگیشن ایس ای راجیندر پرساد، ڈسٹرکٹ ایگریکلچر آفیسر انجی پرساد، ہارٹیکلچر آفیسر رمنا اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post