ووٹر لسٹوں کی شفافیت اور شہریت کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت: غیور عوام لاپرواہی سے بچیں
byAWAZ E NIRMAL NEWS•
0
رپورٹ: آوازِ نرمل نیوز، 6 جولائی 2026— نرمل: ریاست تلنگانہ میں ایس آئی آر (SIR) مہم کے آغاز کے ساتھ ہی شہرِ نرمل اور اس کے مضافاتی علاقوں میں ووٹر لسٹوں کو ہر قسم کی غلطیوں سے پاک اور شفاف بنانے، ضروری دستاویزات کو مکمل کرنے اور بطور شہری اپنے وجود و حقوق کا ثبوت فراہم کرنے کے لیے بیداری مہم کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی پس منظر میں گلزار مارکیٹ کے تحت وارڈ نمبر 39 اور 27 میں ایک روزہ خصوصی "ایس آئی آر ہیلپ ڈیسک و فارم فلنگ کیمپ" کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ اس مہم کے روحِ رواں اور ممتاز سماجی شخصیت شیخ امتیاز احمد نے عوام کو اس مہم کی سنگینی اور افادیت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے انتہائی مدلل انداز میں بتایا کہ یہ مہم محض ایک رسمی یا سرکاری ضابطہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری شہریت کے تحفظ اور ووٹر لسٹ میں نام کی درستگی کا ایک انتہائی حساس، بنیادی اور دستاویزی ثبوت ہے۔ شیخ امتیاز احمد نے اس بات پر گہرے دکھ اور فکر کا اظہار کیا کہ اگر عوام نے اس اہم ترین مہم میں حصہ لینے سے گریز کیا یا کسی بھی قسم کی لاپرواہی برتی، تو مستقبل میں ان کی شہریت پر بھی انگلی اٹھائی جا سکتی ہے اور وہ اپنے سب سے بڑے جمہوری و دستوری حق، یعنی حقِ رائے دہی (ووٹ ڈالنے کے حق) سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس حقیقت کو واضح کیا کہ جس معاشرے یا سرزمین پر ہم اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہو جائیں، وہاں ہمارا وجود اور ہماری سیاسی و سماجی حیثیت نہ کے برابر رہ جاتی ہے، لہٰذا اسی سنگین خطرے اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اس ہیلپ ڈیسک کا اہتمام کیا گیا ہے۔ کیمپ کے دوران منتظمین کی جانب سے عوام سے مخلصانہ اپیل کی گئی کہ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے؛ لہٰذا جہاں کہیں بھی عوام کو فارم بھرنے، ناموں کی منتقلی یا دستاویزات کی درستی میں کوئی بھی تکنیکی دشواری یا رکاوٹ پیش آ رہی ہو، وہ فوری طور پر اپنے قریبی ہیلپ ڈیسک سے رجوع ہو کر اپنے فارم لازمی طور پر جمع کروائیں۔ اس ایک روزہ دوراندیش مہم کو منظم اور کامیاب بنانے میں عبدالجاوید، محمد اظہر الدین، شیخ منہاج، طیب بن صلاح اور منصور خان نے صبح سے شام تک انتھک اور فعال خدمات انجام دیں اور ہر آنے والے شہری کی بھرپور رہنمائی کرتے ہوئے ان کے فارم بھرنے کے عمل کو حسنِ اخلاق کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مقامی عوام اور بزرگوں نے نوجوانوں کی اس مخلصانہ کوشش اور عوامی تڑپ کی زبردست ستائش کرتے ہوئے انہیں اپنی نیک دعاؤں سے نوازا۔