نوجوانوں میں فکری شعور اور قوانین سے واقفیت وقت کی اہم ترین ضرورت: ضلع کلکٹر بی ستیہ پرساد




 رپورٹ: آوازِ نرمل نیوز، جگتیال: 30 مئی 2026۔ حکومتِ تلنگانہ کے فلاحی و ترقیاتی ایجنڈے "پرجا پالانہ- پراگتی پرانالیکا" کے 99 روزہ ایکشن پلان کے زریں سلسلے میں محکمہ دیہی ترقی کے زیر اہتمام جگتیال ضلع کلکٹریٹ کے فلک بوس میٹنگ ہال میں ایک انتہائی باوقار، پُراثر اور شعوری "سنیہا پروگرام" کا انعقاد عمل میں لایا گیا، جس میں ضلع کلکٹر بی ستیہ پرساد نے بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کرتے ہوئے علم و آگہی اور فکر و نظر سے لبریز ایک ایسا انقلابی خطبہ پیش کیا جس نے سامعین کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ اپنے فکر انگیز صدارتی خطاب میں کلکٹر موصوف نے عصرِ حاضر کے تقاضوں پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے اس امر پر شدید زور دیا کہ نوخیز نسل بالخصوص طالبات کو اپنے بنیادی و آئینی حقوق، ملکی قوانین اور حکومت کی فلاحی حکمتِ عملیوں سے نہ صرف کماحقہ واقف ہونا چاہیے، بلکہ معاشرے میں خواتین کے تحفظ، صنفِ نازک کی عزتِ نفس کی بحالی اور مساوی مواقع کی فراہمی کے لیے رائج قوانین کا ادراک رکھنا ہر باشعور لڑکی کا اولین فریضہ اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے دورِ جدید میں سوشل میڈیا کی بے ہنگم یلغار اور اس کے منفی اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نوجوانوں کو تنبیہ کی کہ وہ اس جدید ترین ٹیکنالوجی کو اڑتی ہوئی افواہوں، گمراہ کن پروپیگنڈے اور وقت کے ضیاع کے نذر کرنے کے بجائے محض اپنی تعلیمی استعداد، ہنر مندی اور شخصیت کی ہمہ جہت تعمیر و ترقی کے لیے ایک تعمیری ہتھیار کے طور پر استعمال کریں۔ کلکٹر بی ستیہ پرساد نے طلبہ کے اندر فکری انقلاب اور جمہوریت کے اصل جوہر کو بیدار کرنے کی وکالت کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ نوجوانوں کو اپنے ذہنوں میں بے خوف ہو کر سوال اٹھانے کا جذبہ اور سکت پیدا کرنی چاہیے، کیونکہ حقیقت پسندی پر مبنی سوال قائم کرنے کی عادت ہی علم کے بند دروازوں کو کھولتی ہے اور یہی روایت خود اعتمادی، مثالی قائدانہ خصوصیات اور غیر متزلزل فیصلہ سازی کی قوت کو جنم دیتی ہے۔ انہوں نے جرائم سے پاک معاشرے کی تشکیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کم سنی کی شادیاں، صنفی امتیاز، سائبر کرائم جیسے مہلک ناسوروں کے سدِباب اور خواتین کے تحفظ سے متعلق قوانین کی بیداری وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے، جس کی ترویج کے لیے اساتذہ، والدین اور سماج کے مقتدر حلقوں کو اپنا کلیدی اور تاریخی کردار ادا کرنا ہوگا۔ خواتین کے لیے مروجہ 33 فیصد سیاسی ریزرویشن کا احاطہ کرتے ہوئے انہوں نے دور اندیشانہ مشورہ دیا کہ نوجوان لڑکیوں کو پنچایتی راج کے نظام سے لے کر ایوانِ پارلیمنٹ تک کی سیاست کا گہرا مطالعہ کرنا چاہیے اور معزز عوامی نمائندوں کے پارلیمانی اسلوبِ گفتگو اور طرزِ خطابت کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنا چاہیے تاکہ وہ مستقبل کی بااختیار، سنجیدہ اور مدبر قیادت کے طور پر ابھر سکیں۔ انہوں نے انتہائی پرامید لہجے میں کہا کہ صنفِ اناث کی ترقی کے بغیر ایک مثالی اور متوازن معاشرے کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا، اس لیے ہر لڑکی کو زندگی میں بلند ترین اہداف کا تعین کر کے تعلیم، روزگار اور سماجی خدمات کے ہر میدان میں کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کرنے چاہئیں۔ اس فقید المثال اور فکر انگیز بیداری پروگرام میں ضلع ایڈیشنل کلکٹر (لوکل باڈیز) بی راجہ گوڑ، ڈسٹرکٹ رورل ڈیولپمنٹ آفیسر رگھوورن، دیگر اعلیٰ سارک عہدیداران، مقتدر شخصیات اور طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کر کے اس عزمِ صمیم کو دہرایا کہ وہ ان زریں ارشادات کو مشعلِ راہ بنا کر معاشرے کی فلاح و بہبود میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post