نسلِ نو میں شراب نوشی کا بڑھتا ہوا ہولناک رجحان شدید لمحہء فکریہ: مولانا سید رضوان اسعدی

 

  • خاندانی نظام کی تباہی، طلاق کی کثرت اور جوانی کے جنازوں پر منبر و محراب فاؤنڈیشن کا اظہارِ تشویش

  • رپورٹ: آوازِ نرمل نیوز — 10/ جون 2026: منبر و محراب فاؤنڈیشن تلنگانہ کے صدر مولانا سید رضوان اسعدی نے ایک انتہائی فکر انگیز، روح فرسا اور چونکا دینے والا صحافتی بیان جاری کرتے ہوئے ملت کے باشعور طبقے، بالخصوص علماء، ائمہ اور علاقائی ذمہ داران کو معاشرتی بگاڑ کی طرف متوجہ کیا ہے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے شراب کو ناپاک چیز اور گندگی قرار دیا ہے نیز حضور اکرم ﷺ نے اس کو تمام گناہوں کی جڑ (ام الخبائث) فرمایا ہے، کیونکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان شراب نوشی کے بعد اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے جس کے نتیجے میں نہ وہ والدین کا احترام برقرار رکھ پاتا ہے اور نہ ہی معاشرے کے دیگر افراد کے ساتھ کوئی عمدہ برتاؤ اس سے ممکن ہوتا ہے، بلکہ اس بدترین حالت میں وہ گالی گلوچ، چوراہوں پر چیخ و پکار اور اپنی شریکِ حیات کے ساتھ حد درجہ ناروا سلوک کا مرتکب ہوتا ہے، جبکہ شریعتِ اسلامی کا یہ واضح مسئلہ ہے کہ حالتِ نشہ میں دی گئی طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے مگر افسوس کہ آج کتنے ہی ایسے نادان ہیں جنہوں نے حالتِ نشہ میں اپنی بیویوں کو طلاق دے رکھی ہے اور اس کے باوجود وہ حرام تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں جو کہ سراسر تباہی کا راستہ ہے، انہوں نے سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شراب نوشی کی وجہ سے نہ صرف انسان معاشرے میں ذلیل و رسوا ہو جاتا ہے بلکہ اس کے اہل خانہ اور ماتحتوں کو بھی شدید سماجی رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مولانا نے اس لت کے طبی نقصانات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نوجوانوں کو جھنجھوڑا کہ اللہ کی دی ہوئی اس قیمتی زندگی کی قدر کریں کیونکہ شراب نوشی انسان کے جگر (لیور) کو مکمل طور پر ناکارہ کر دیتی ہے اور دیگر اعضاءِ رئیسہ کو کھوکھلا کر کے انسان کو بسترِ مرگ پر پہنچا دیتی ہے، جس کے بعد انسان کی پوری زندگی دواخانوں اور ہسپتالوں کے چکر کاٹنے میں گزر جاتی ہے اور محنت کی کمائی پانی کی طرح بہہ جاتی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ انسانی جسم کا کوئی حصہ اگر ایک بار خراب ہو جائے تو قدرتی عضو کا نعم البدل کوئی مصنوعی (مثنوی) چیز نہیں ہو سکتی، مصنوعی اعضاء صرف نام کے ہوتے ہیں جو زندگی کی وہ رونق اور صحت دوبارہ کبھی نہیں لوٹا سکتے، مولانا نے تشویشناک انکشاف کیا کہ اب یہ معاملہ اس قدر زور پکڑتا جا رہا ہے کہ نابالغ بچے اور سنِ بلوغت کو پہنچنے والے نوجوان بکثرت اس مہلک لت کا شکار ہو رہے ہیں، اور منبر و محراب فاؤنڈیشن کے بینر تلے مختلف علاقوں کے احباب سے ملاقاتوں کے دوران یہ دردناک اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ نوجوان بڑی تعداد میں اس دلدل میں دھنس رہے ہیں، اگر اس سیلاب کو بروقت نہ روکا گیا تو نہ صرف نوجوانوں کا مستقبل برباد ہوگا بلکہ ان کی ازدواجی زندگیاں بھی جہنم بن جائیں گی جیسا کہ آج کڈنیوں کا ناکارہ ہونا، طلاق کا عام ہونا اور عین جوانی کی عمر میں اٹھنے والے جنازے ہمارے سامنے دل دہلا دینے والی مثالیں ہیں، انہوں نے ائمہ کرام، علماء اور خطباء عظام سے دردمندانہ گزارش کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کا جائزہ لیں اور جمعہ کے خطبات کے علاوہ ایسے افراد سے انفرادی ملاقاتیں کر کے ان کی دینی و طبی ذہن سازی کریں کیونکہ امت کی اصلاح میں علماء کا کردار ہمیشہ کلیدی رہا ہے اور انہیں اللہ کی طرف سے تفہیم کی بہترین صلاحیت ملی ہے، لہٰذا دنیا و آخرت کی نجات کا احساس دلا کر انفرادی و اجتماعی شعور بیدار کرنا ملت پر ایک عظیم احسان ہوگا، انہوں نے اصرار کیا کہ مساجد کے ذمہ داران، دانشوروں اور شریف نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ علماء کا بھرپور ساتھ دیں کیونکہ کسی ایک زندگی کا تحفظ دراصل ایک پورے خاندان کا تحفظ ہے، اور امید ہے کہ ملت کے قابلِ قدر علماء اور معزز احباب اس سنگین صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے فوری اور عملی اقدامات فرمائیں گے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post