
رپورٹ: آوازِ نرمل نیوز، 2 مئی 2026: ملتِ اسلامیہ کی سماجی فلاح اور غریب و متوسط طبقات کو راحت پہنچانے کی سمت میں ایک روشن مثال قائم کرتے ہوئے، گورنمنٹ صدر قاضی نرمَل حضرت مولانا راشد خان قاسمی نے ایک انتہائی ستائش جوگ اور انسانیت نواز فیصلہ کیا ہے۔ موصوف نے اعلان کیا ہے کہ شہر نرمَل اور اس کے مضافاتی دیہاتوں کی ایسی مستحق بچیاں جن کے سرپرست معاشی طور پر کمزور ہیں، نیز مساجد کے ائمہ، موذنین، حفاظ اور علمائے کرام کی صاحبزادیوں کے عقدِ نکاح کی 'قضاۃ فیس' اب مکمل طور پر معاف رہے گی۔ اس سہولت سے استفادے کے لیے متعلقہ محلے کی مسجد کے امام یا صدرِ کمیٹی کی تصدیق کو لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ حقداروں تک براہِ راست فائدہ پہنچ سکے۔ مولانا راشد خان قاسمی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "نکاح کو سادہ اور آسان بنانا تعلیماتِ اسلامی کا بنیادی حصہ ہے؛ ہمارا مقصد صرف خدمتِ خلق ہے تاکہ مہنگائی کے اس دور میں کوئی بھی بیٹی مالی تنگی کی وجہ سے سماجی و دینی فریضے کی ادائیگی میں تاخیر کا شکار نہ ہو"۔ اس فیصلے کو شہر کے مذہبی و سماجی حلقوں میں بے حد سراہا جا رہا ہے اور اسے دیگر ذمہ داران کے لیے ایک قابلِ تقلید عمل قرار دیا گیا ہے۔