عزمِ نو: شفافیت کی دہلیز پر صحافت کا وقار، کلکٹر ابھیلاشا ابھیناو کا اصولی فیصلہ



 رپورٹ: آوازِ نرمل نیوز | تاریخ: 18 اپریل 2026 | نمائندہ: فاضل ہاشمی — ضلع کلکٹر ابھیلاشا ابھیناو نے ایک بار پھر اپنی انتظامی بصیرت اور حق گوئی کا ثبوت دیتے ہوئے یہ واضح کر دیا ہے کہ ضلع میں زرد صحافت اور مفاد پرستی کے سدِ باب کے لیے اب صرف وہی قلم کار اکیڈیشن کارڈ کے حقدار ٹھہریں گے جن کا دامن پیشہ ورانہ دیانتداری سے منور اور کردار ہر قسم کے داغ سے پاک ہوگا۔ کلکٹریٹ کے پروقار ماحول میں نو تشکیل شدہ ڈسٹرکٹ لیول اکیڈیشن کمیٹی کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کے وضع کردہ قوانین محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مقدس امانت ہیں، جن کی پاسداری ڈی پی آر او (DPRO) اور کمیٹی ممبران پر فرض ہے۔ کلکٹر موصوفہ نے دوٹوک لہجے میں ہدایت دی کہ صحافت کی آڑ میں چھپنے والے مجرمانہ عناصر، سرکاری ملازمین اور آؤٹ سورسنگ عملے کے لیے اکیڈیشن کے دروازے مکمل طور پر بند رہیں گے، کیونکہ صحافت کا تاج صرف ان کے سر پر سجتا ہے جو عوامی مسائل کی حقیقی ترجمانی کرتے ہوں۔ انہوں نے ہر درخواست کی عمیق جانچ پڑتال اور شفافیت کو ترجیحِ اول قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت جلد کمیٹی کے مکمل اجلاس میں حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔ اس اہم موقع پر ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر ای. وشنو وردھن کے ہمراہ کمیٹی کے معزز اراکین الوالہ ہنمنتو، کونڈوری رویندر، عالم اشوک، آر مہیندر، ایم اے وسیم، رامیلہ راجیشور، سری پورم ناگاراجو اور پریم کمار نے بھی شرکت کی اور کلکٹر صاحبہ کے اس اصلاحی نظریے کی بھرپور تائید کی۔ آوازِ نرمل نیوز کی یہ رپورٹ نہ صرف ایک خبر ہے بلکہ ضلع کے ہر مخلص صحافی کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post