والدین کی نافرمانی پر اب خیر نہیں: تلنگانہ میں تاریخی 'پیرنٹل سپورٹ بل' کی تیاریاں

 

سنگدل اولاد کی تنخواہوں سے 15 فیصد کٹوتی کی تجویز؛ ضعیف والدین کے بینک کھاتوں میں براہِ راست منتقلی کا منصوبہ

رپورٹ: ادارہ آوازِ نرمل بتاریخ: 30 مارچ 2026

حیدرآباد/نرمل: ریاست تلنگانہ میں خاندانی نظام کی مضبوطی اور بزرگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت ایک انقلابی قانون سازی کی سمت قدم بڑھا رہی ہے۔ باوثوق سرکاری ذرائع اور حالیہ پارلیمانی مشاورت کے مطابق، تلنگانہ اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں "پیرنٹل سپورٹ اینڈ مانیٹرنگ بل 2026" پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے، جس کے تحت اپنے والدین کو بے سہارا چھوڑنے والے ملازمین کے خلاف سخت مالی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

قانون کی مجوزہ دفعات اور اثرات:

اس مجوزہ قانون کی رو سے، وہ تمام سرکاری و نجی ملازمین جو اپنے ضعیف یا معذور والدین کی کفالت سے جی چراتے ہیں، ان کی ماہانہ تنخواہ سے 10 تا 15 فیصد کٹوتی کی تجویز زیرِ غور ہے۔ یہ کٹوتی کی گئی رقم براہِ راست متاثرہ والدین کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جائے گی تاکہ وہ اپنی ادویات اور روزمرہ کی ضروریات کے لیے کسی کے محتاج نہ رہیں۔

قومی اور عالمی مثالیں:

واضح رہے کہ بھارت کی ریاست آسام میں 'پرنام ایکٹ' (PRANAM Act) پہلے ہی کامیابی سے نافذ ہے، جس کے مثبت نتائج کو دیکھتے ہوئے تلنگانہ حکومت نے بھی اس ماڈل کو اپنانے پر غور شروع کیا ہے۔ اسی طرح کے قوانین چین اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی رائج ہیں، جہاں والدین کی مالی مدد کو قانونی فریضہ قرار دیا گیا ہے۔

خواتین ملازمین اور عوامی نمائندے بھی دائرہ کار میں:

یہ مجوزہ قانون صنفی امتیاز سے پاک ہوگا اور اس کا اطلاق مرد و خواتین دونوں ملازمین پر یکساں ہوگا۔ اس کے علاوہ عوامی نمائندے (ارکانِ اسمبلی و بلدیاتی نمائندے) بھی اس قانون کے دائرہ کار میں شامل کیے جا سکتے ہیں تاکہ معاشرے کے ہر طبقے میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہو۔

انتظامیہ کا موقف:

حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اولڈ ایج ہومز (دارالامان) میں بزرگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اس قانون کا مقصد سزا دینا نہیں بلکہ بزرگوں کو ان کے اپنے ہی گھروں میں وہ عزت و احترام دلانا ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔

تصدیق کا حوالہ: یہ خبر حکومتِ تلنگانہ کے زیرِ غور 'مجوزہ بل'، اسمبلی کی حالیہ بحث اور آسام کی 'پرنام یوجنا' کے تقابلی مطالعہ پر مبنی ہے۔ قارئین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ بل کی حتمی منظوری اور قواعد و ضوابط کا باضابطہ اعلان سرکاری گزٹ نوٹیفکیشن کے بعد ہی عمل میں آئے گا۔

پیشکش: عثمان بن عقیل (ایڈیٹر ان چیف، آوازِ نرمل)


Post a Comment

Previous Post Next Post